پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام طورخم پر افغان فوج کے ساتھ اتوار کی شب فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے پاکستانی فوج کے میجر علی جواد ہسپتال میں دم توڑ گئے ہیں جبکہ سرحد پرگیٹ کی تعمیر پر شروع ہونے والی کشیدگی تیسرے دن بھی برقرار ہے۔
یہ تنازعہ پاکستان کی جانب سے سرحد پر اپنی حدود کے اندر ایک دروازے کی تعمیر پر شروع ہوا اور اتوار سے پیر کی رات تک وقفے وقفے سے ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں اب تک پاکستانی اور افغان فوج کا ایک ایک رکن ہلاک جبکہ 11 پاکستانیوں سمیت 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پشاور میں نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق میجر علی جواد چنگیزی کو علاج کے لیے پشاور کے فوجی ہسپتال سی ایچ ایم منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ منگل کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔پشاور میں حکام کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے دیگر پانچ سکیورٹی اہلکاروں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
دوسری جانب مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طورخم پر غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے جبکہ منگل کو بھی سرحد کی دونوں جانب سکیورٹی فورسز نے اپنی پوزیشنز سنبھال رکھی ہیں۔
اہلکار کے مطابق طورخم سرحد کے قریب واقع لنڈی کوتل شہر میں دو دن کے بعد کرفیو ختم کر دیا گیا ہے اور تاجروں کو کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سرحد بند ہونے کی وجہ سے دونوں جانب ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جبکہ پاکستان سے جانے والے وہ ٹرک واپس پشاور آ گئے ہیں جن پر خوراک لدی ہوئی تھی۔

0 comments:
Post a Comment