ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں ایک نابینا بچے کو قدرت نے ایسے نور سے مالا مال کر دیا کہ جس پر آنکھوں والے جتنا بھی رشک کریں کم ہے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق پانچ سالہ بچہ حسین محمد طاہر پیدائشی طور پر بصارت سے محروم ہے۔ بچے کے والد محمد طاہر نے سوچا کہ ان کا بیٹا عام بچوں کی طرح ٹی وی نہیں دیکھ سکتا تو اسے ایک ریڈیو خرید دیا۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کا ننھا بیٹا قرآن کی تعلیمات سے واقفیت حاصل کرے لہٰذا ریڈیو پر ایک ایسا چینل سیٹ کر دیا جس پر 24 گھنٹے قرآن مجید کی تلاوت نشر کی جاتی تھی۔ محمد طاہر کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا شروع سے ہی ریڈیو سے نشر ہونیوالی تلاوت کو دلچسپی اور شوق سے سنتا تھا لیکن انہیں کبھی اندازہ نہیں ہوا کہ وہ جو سنتا تھا اسے یاد کرنے کی کوشش بھی کر رہا تھا۔
محمد طاہر نے بتایا کہ پچھلے تین سال سے ننھے حسین محمد کا معمول تھا کہ وہ باقاعدگی سے ریڈیو پر تلاوت قرآن مجید سنتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ حال ہی میں بچے نے ان سے فرمائش کی کہ وہ مسجد نبوی جانا چاہتا ہے۔ والد نے یہ فرمائش پوری کرنے کیلئے ننھے بیٹے سے کہا کہ وہ سورة بقرہ کی کچھ آیات یاد کر کے سنائے تو وہ اسے ضرور مسجد نبوی لیے جائیں گے، لیکن اس وقت ان کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب ان کے نابینا بیٹے نے سورة بقرہ کی تلاوت شروع کی اور مکمل سورة آخر تک سنا ڈالی۔
محمد طاہر کہتے ہیں کہ وہ حیران تھے لیکن انھیں اس وقت مزید حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب بچے نے بتایا کہ وہ دیگر سورتیں بھی یاد کر چکا ہے۔ وہ حیرانگی اور بے یقینی کے عالم میں اپنے بیٹے کو حفاظ قرآن کے پا س لے کر گئے جنہوں نے اس کا ٹیسٹ لیا اور تصدیق کر دی کہ وہ مکمل قرآن مجید حفظ کر چکا تھا۔
ننھے حسین محمد کی مسجد نبوی جانے کی فرمائش بھی خوب پوری ہوئی۔ قرآن مجید سے اس کی محبت اور تحصیل علم کیلئے لگن کو دیکھ کر مسجد نبوی میں بصری مسائل کے شکار بچوں کیلئے قائم خصوصی دائرہ حفظ قرآن میں اسے داخل کر لیا گیا، اور اب مسجد نبوی میں ہی اس کی مزید تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ پانچ سال سے اپنے بیٹے کے نابینا پن پر کڑھنے والے والد کی زندگی پر اس ایمان افروز تبدیلی کا کیا اثر ہوا، اس کا اندازہ ان کے اس بیان سے کیا جا سکتا ہے، "وہ پیدا ہوا تو بصارت سے محروم تھا ، مگر اب میں وہ تمام دکھ بھول گیا ہوں جو میں نے پچھلے پانچ سالوں کے دوران دیکھے۔

0 comments:
Post a Comment