Recent Post

Monday, August 22, 2016

’میری کامیابی کا صرف ایک ہی راز ہے کہ۔۔۔‘ بینک لوٹنے والا کامیاب ترین چور جو کبھی نہیں پکڑا گیا، خود ہی اپنی کامیابی کا راز سب کو بتادیا


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) بینک ڈکیتی کے لیے جانا تو آسان ہو سکتا ہے مگر وہاں سے رقم لوٹ کر واپس نکلنا اور پولیس کے ہتھے نہ چڑھنا یقینا بہت مشکل ہے لیکن آپ یہ سن کر حیران ہو جائیں گے کہ امریکہ میں ایک ایسا ڈاکو بھی ہے جس نے کئی سال تک بینک ڈکیتیاں کیں لیکن کبھی پکڑا نہیں گیا۔ اب اس نے خود ہی اپنی اس کامیابی کا راز بتا دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ریڈٹ (Reddit)پر کلے ٹمی نامی اس ڈکیت نے بتایا ہے کہ "2005-06ءکے دوران میں نے انٹرنیٹ پر بینک ڈکیتیوں کے متعلق بہت سی ریسرچ کی اور ناکام ہوجانے والی ڈکیتیوں کی ناکامی کی وجوہات تلاش کیں۔اس کام کے متعلق پوری معلومات حاصل کرنے کے بعد میں نے ڈکیتیوں کا آغاز کر دیا۔ عموماً جرائم پیشہ افراد اسلحہ لیکر ٹیم کی شکل میں بینک لوٹنے جاتے ہیں لیکن میری ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہی بات ان لوگوں کو ناکام بنا دیتی ہے۔ میں نے صرف انٹرنیٹ کے ذریعے بینک ڈکیتی سیکھی اور ہمیشہ اکیلے ہی واردات کی۔" 
برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق کلے ٹمی کا مزید کہنا تھا کہ "میں کبھی کسی کو اپنے اس کام کے متعلق نہیں بتاتا تھا۔ اپنی بیوی اور قریبی دوستوں کو بھی نہیں۔ یہی وہ بات تھی جو میں نے انٹرنیٹ سے سیکھی تھی۔ میرا طریقہ¿ واردات یہ تھا کہ میں بغیر اسلحے کے اکیلا بینک میں یوں جاتا جیسے عام صارفین جاتے ہیں۔ انہی کی طرح میں قطار میں کھڑا ہو جاتا۔ جب میری باری آتی تو آرام سے کیشیئر سے میں کہتا کہ تمہاری اوپر والی دراز میں جتنے 50اور 100ڈالر کے نوٹ ہیں وہ مجھے دے دو۔ یہ بات اکثر میں نے ایک کاغذ پر لکھ رکھی ہوتی تھی اور وہ کاغذ کیشیئر کے سامنے رکھ دیتا تھا۔ یوں کیشیئر مجھے چپ چاپ رقم دے دیتا اور میں آرام سے بینک سے باہر نکل جاتا۔ میں نے کبھی کیشیئر کو کوئی دھمکی نہیں دی۔ میں بڑے سکون سے اسے اس تحریر والا کاغذ دیتا اور وہ چپ چاپ اس حکم کی تعمیل کر دیتا۔ تمام وارداتوں میں نے فی بینک اوسطاً 5ہزار ڈالر لوٹے تھے۔ یہ اتنی کم رقم ہے کہ بینک کا عملہ اس پر شور مچانے کا رسک نہیں لیتا کیونکہ اس قدر خسارہ بینکوں کے لیے معمولی بات ہوتی ہے۔ 

کلے ٹمی کا مزید کہنا تھا کہ "میں اپنے کیے پر شرمندہ نہیں ہوں کیونکہ میں نے ان وارداتوں میں کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا۔ میں بینک کے عملے سے مناسب سلوک کرتا تھا کیونکہ مجھے ان سے ہمدردی محسوس ہوتی تھی۔" اپنی زندگی کی یادگار ڈکیتی کے متعلق بات کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ "ایک بار میں نے خاتون کیشیئر کو اپنے مطالبے کی تحریر پر مبنی لفافہ دیا۔ اس نے چپ چاپ اس کی تعمیل کی۔ ساتھ ہی اس نے 100ڈالر کا ایک نوٹ اپنی جیب میں بھی ڈال لیا۔ جب میں پکڑا گیا اور میرا وکیل بینک کی رپورٹ میرے پاس لے کر آیا تو میں نے اسے بتایا کہ اس میں انہوں نے 100ڈالر رقم زیادہ لکھ رکھی ہے۔ میرے وکیل نے یہ بات پولیس کو بتائی اور پولیس نے بینک انتظامیہ کو۔ بینک انتظامیہ نے اس پر واقعے کی ویڈیو دیکھی تو اس میں خاتون کیشیئر کی چوری سامنے آ گئی جس پر اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔" واضح رہے کہ گزشتہ سال جب کلے ٹمی نے ایک بینک لوٹا تو اس کی خاتون کیشیئر نے حواس باختہ ہو کر شور مچا دیا۔ وہ چلانے لگی کہ دروازے بند کر دو، دروازے بند کر دو، مگر وہ پھر بھی آرام سے چلتا ہوا باہر نکل گیا۔ بالآخر اس نے خود ہی پولیس کے پاس جا کر اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس نے اسے عدالت میں پیش کردیا جہاں سے اب اسے تین سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے

0 comments:

Post a Comment

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();