Recent Post

Tuesday, August 2, 2016

مشرقین کو ان کے خدا کہاں سے ملتے ہیں؟دیکھ کر آپ بھی ہنس پڑیں گے


تائپی(مانیٹرنگ ڈیسک) بالآخر مذہب نے بھی صنعتی انقلاب میں شراکت داری کر لی ہے۔پہلے تو بت پرست قومیں روایتی طریقوں سے اپنے 'خدا'اور مندر وغیرہ بنایا کرتی تھیں مگر اب تائیوان میں اس کام کی صنعت وجود میں آ گئی ہے اور ایک فیکٹری میں بت پرستوں کے "خدا" بنائے جانے لگے ہیں۔یہ فیکٹری 78سالہ تائیوانی شہری لین فو چن نے بنائی ہے جس کا نام اس نے "چوآن سو'(Chuanso)رکھا ہے۔ اس فیکٹری میں مختلف نمونوں کے "خداﺅں" کے ساتھ مندر، مزار و دیگر مذہبی چیزیں بھی بنائی جاتی ہیں۔ 

ایران میں اس جھیل نے دیکھتے ہی دیکھتے رنگ بدل لیا، وجہ آلودگی نہیں بلکہ ایسی حیران کن وجہ سامنے آگئی کہ جان کر سائنسدان بھی قدرت کے نظام پر دنگ رہ گئے 

فیکٹری میں یہ کام ڈائیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے جس سے مہینوں کا کام دنوں میں ممکن ہو گیا ہے۔ فیکٹری کے مزدور ڈائی میں کنکریٹ بھر دیتے ہیں اور اسے ایک ہفتے کے لیے سوکھنے دیا جاتا ہے۔ سوکھ جانے پر دیوتا یا مندر کی عمارت کو پینٹ کیا جاتا ہے اور اس پر مذہبی علامات بنائی جاتی ہیں۔یوں جو دیوتا یا مندر روایتی طریقے سے 6مہینے میں بنتا تھا اب چند ہفتوں میں تیار ہونے لگا ہے۔ 

شنگھائسٹ کی رپورٹ کے مطابق تیاری کے بعد یہ مذہبی عمارات یا دیوتا بڑے ٹرکوں کے ذریعے متعلقہ جگہ تک لیجائے جاتے ہیں اور نصب کر دیئے جاتے ہیں۔ بیرون ملک سے آنے والے آرڈرز پر "مال" سمندری راستے سے بھیجا جاتا ہے۔کمپنی ساڑھے چار مربع میٹر سے لے کر 48مربع میٹر تک وسعت کے حامل مندر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کمپنی کون سے مذاہب کے دیوتا اور مندر بناتی ہے۔تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ کمپنی اپنی مصنوعات بھارت، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ویت نام اور چین سمیت دیگر کئی ممالک میں فروخت کر رہی ہے

0 comments:

Post a Comment

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();