بوسٹن (نیوز ڈیسک)امریکا میں 26 سال تک جاری رہنے والی ایک جامع تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے پراسٹیٹ کینسر کے شکار مردوں کے لئے خشک میوہ جات کا حیرت انگیز فائدہ دریافت کر لیا ہے۔ ڈیلی میل کے مطابق یہ تحقیق ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی اور اس میں 47ہزار مردوں کی صحت کا مشاہدہ کیا گیا، جس کے دوران خصوصاً پراسٹیٹ کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے والوں پر خشک میوہ جات کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
سائنسی جریدے برٹش جرنل آف کینسر میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کے خشک میوہ جات کا ایک اونس (مٹھی بھر) ہفتے میں پانچ دن استعمال کرنے والے پراسٹیٹ کینسر کے مریضوں میں اس بیماری سے موت کا خدشہ تقریباً ایک تہائی رہ جاتا ہے۔ تحقیق میں شامل مردوں میں سے 6800پراسٹیٹ کینسر کے مرض کا شکار ہوئے۔ یہ مردوں میں پایا جانے والا عام کینسر ہے اور اس کی وجہ سے ہر سال دنیا میں لاکھوں مردوں کی موت ہوجاتی ہے۔
سائنسی جریدے برٹش جرنل آف کینسر میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کے خشک میوہ جات کا ایک اونس (مٹھی بھر) ہفتے میں پانچ دن استعمال کرنے والے پراسٹیٹ کینسر کے مریضوں میں اس بیماری سے موت کا خدشہ تقریباً ایک تہائی رہ جاتا ہے۔ تحقیق میں شامل مردوں میں سے 6800پراسٹیٹ کینسر کے مرض کا شکار ہوئے۔ یہ مردوں میں پایا جانے والا عام کینسر ہے اور اس کی وجہ سے ہر سال دنیا میں لاکھوں مردوں کی موت ہوجاتی ہے۔
پستے کے وہ حیرت انگیز فوائد جو آپ کو معلوم نہیں ، خصوصاً خواتین کیلئے
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پراسٹیٹ کینسر کے جو مریض ہفتے میں پانچ دن روزانہ کم از کم ایک اونس خشک میوہ جات استعمال کرتے رہے ان میں مہینے میں ایک بار خشک میوہ جات کھانے والوں کی نسبت اس بیماری کی وجہ سے موت کا خدشہ 34 فیصد کم ہو گیا۔ ماہرین نے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ یہ فوائد کسی بھی قسم کے خشک میوہ جات کھانے سے ہوسکتے ہیں۔ تحقیق کے شرکاءمیں سے اکثر مونگ پھلی کا استعمال کرتے رہے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک میوہ جات میں وٹامن ای کی ایک مخصوص قسم ٹوکوفیرولز پائی جاتی ہے جو کینسر کے خلاف مدافعت پیدا کرتی ہے۔ ان میں فائٹو کیمیکل بھی پائے جاتے ہیں جو کینسر کے مریضوں کے لئے مفید ثابت ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے متعدد تحقیقات میں خشک میوہ جات کو دل کے امراض اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بھی فائدہ مند قرار دیا جاچکا ہے
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پراسٹیٹ کینسر کے جو مریض ہفتے میں پانچ دن روزانہ کم از کم ایک اونس خشک میوہ جات استعمال کرتے رہے ان میں مہینے میں ایک بار خشک میوہ جات کھانے والوں کی نسبت اس بیماری کی وجہ سے موت کا خدشہ 34 فیصد کم ہو گیا۔ ماہرین نے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ یہ فوائد کسی بھی قسم کے خشک میوہ جات کھانے سے ہوسکتے ہیں۔ تحقیق کے شرکاءمیں سے اکثر مونگ پھلی کا استعمال کرتے رہے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک میوہ جات میں وٹامن ای کی ایک مخصوص قسم ٹوکوفیرولز پائی جاتی ہے جو کینسر کے خلاف مدافعت پیدا کرتی ہے۔ ان میں فائٹو کیمیکل بھی پائے جاتے ہیں جو کینسر کے مریضوں کے لئے مفید ثابت ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے متعدد تحقیقات میں خشک میوہ جات کو دل کے امراض اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بھی فائدہ مند قرار دیا جاچکا ہے

0 comments:
Post a Comment