Recent Post

Friday, June 10, 2016

چائے میں چینی سے آپ کی حیثیت کا اندازہ

انگریزوں کو چائے بہت پسند ہے۔کہتے ہیں کہ ہر سال برطانیہ کے لوگ تقریباً 60 ارب کپ چائے پی جاتے ہیں۔ یعنی فی کس اوسطاً 900 کپ چائے سالانہ۔
یہ اوسط بڑے بوڑھوں اور بچوں سبھی کو ملا کر بنتا ہے۔
ان میں سے کچھ بچے تو ایسے ہوں گے جو چائے نہیں پیتے ہوں گے۔ اب اسی سے آپ اندازہ لگا لیجیے کہ انگریز ایک دن میں اوسطاً کتنی چائے پی جاتے ہوں گے۔
کسی کو دودھ والی چائے پسند ہے، تو کسی کو لیمن ٹی، کسی کو سادہ چائے سے پیار ہے تو کوئی بغیر چینی والی چائے پیتا ہے۔ کچھ بھی ہو برطانیہ میں چائے خوب پی جاتی ہے۔
آج چائے انگریزوں کے رہن سہن کا اہم حصہ ہے۔ صبح کی چائے، دوپہر بعد کی چائے۔ کام سے اکتاہٹ ہونے پر ہونے والا ٹی بریک۔
لوگ لان میں بیٹھ کر سکون سے چائے کا لطف لیتے ہیں اور دفتر میں سوٹ بوٹ میں بیٹھے ہوئے بھی چائے کی چسکی لیتے ہیں۔ یہاں چھوٹے بڑے ریستوران، گھروں اور باوقار ہوٹلوں میں، آپ کو چائے ہر جگہ مل       جائے گی۔آخر چائے میں ایسی کیا بات ہے کہ انگریز اس کے اتنے بڑے شیدائی ہیں؟ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ جس طرح کی چائے پیتے ہیں، اس سے آپ کے کردار کے بارے میں بھی بہت سی باتوں کا پتہ چل جاتا ہے؟
چائے کا ذائقہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح سے اگائی گئی ہے، پھر کس طرح اسے تیار کیا جاتا ہے اور آخر میں اسے کیسے بنایا گيا ہے؟
چائے کے پودے کا سائنسی نام كیمیليا سائنیسس ہے۔ یہ گرم اور بارش والے علاقوں میں پیدا ہوتی ہے۔ اگر اس کے پودے سے گرین ٹی تیار کی جانی ہو تو اسے سائے میں اگایا جاتا ہے۔ اس کے اوپر جالی لگانی پڑتی ہے کیونکہ سورج کی روشنی کم ہونے پر اس کی پتیاں کلوروفل زیادہ پیدا کرتی ہیں۔
گرمی کم پڑنے پر چائے کے پودے میں فالی فنال نامی کیمیائی مادہ بھی کم پنپتا ہے جس سے چائے میں ہلکا کسیلا ذائقہ آتا ہے۔ بعض لوگوں کو یہ کسیلا پن بھی پسند آتا ہے۔

0 comments:

Post a Comment

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();