Recent Post

Thursday, June 16, 2016

’وہ تین کام جو لڑکے لڑکی کو شادی سے پہلے ایک دوسرے کیساتھ کرنے کی اجازت ہے‘

لاہور(خصوصی رپورٹ ) رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی معاشرے میں وحشت ناک خبریں سامناآناشروع ہوگئیں اور عمومی واقعات لو میرج یا پسند کی شادی کا نتیجہ قرار پائے ، اس ضمن میں معروف عالم دین مفتی عبدالقوی نے کہاہے کہ ہم نے قرآن و سنت کی روشنی میں ’غیرت‘ کو دیکھنا ہے جس کے نام پر قتل ہوتے ہیں ، مذہب میں تین چیزوں کی اجازت ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی محترمہ نکاح کے ارادے کیساتھ کسی نوجوان کیساتھ رابطہ کرے اور تمام فقہائے اسلام بھی متفق ہیں کہ عاقل و بالغ نوجوان بھی اور عاقل و بالغ محترمہ بھی اپنے نکاح کی بابت مکمل خود مختار ہیںاور شادی کیلئے ولی کے جبر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، دباﺅمیں آکر شرعی طورپر نکاح نہیں ہوتا، احادیث کی روشنی میں کہہ رہا ہوں کہ جس محترم نے اور جس محترمہ نے اپنی عائلی زندگی کے حوالے سے مستقبل کے فیصلے کرنے ہیں ، اُنہیں اجازت ہے کہ اپنی آنکھوں سے ایک دوسرے (ممکنہ دولہے اور دلہن)کو دیکھیں ، اس بات کی اجازت ہے کہ ایک نشست میں بیٹھ بھی سکتے ہیں، حالانکہ ابھی تک غیر محرم ہے چونکہ اسلام دین فطرت ہے، اور تیسری یہ کہ شادی کے بعد کے مسائل وغیرہ کے جتنے بھی امور ہیں ،ان پر محترم اور محترمہ بیٹھ کرایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بات چیت کرسکتے ہیں اور اس کی اجازت شریعت نے دی ہے۔
روزنامہ پاکستان کیساتھ فیس بک پر لائیوگفتگو کرتے ہوئے عالم دین مفتی عبدالقوی نے بتایاکہ غیرت کے نام پر قتل کی بات کرنے سے پہلے اس کے معنی معلوم ہونے چاہیے ، حضور ﷺنے فرمایا کہ تمہاری مثال ایسے ہے کہ جس طرح ایک چرواہا ہوتا ہے۔ یعنی کسی کے بچے ، اہلیہ ، شاگرد ، مرید وغیرہ رعیت ہیں ، قرآن و حدیت کی روشنی میں نکاح کی نیت سے کسی محترمہ و محترم کا رابطہ کرنا جائز ہے ، اسلام جبر کا دین نہیں اور اگر کوئی زبردستی کرے تو نکاح نہیں ہوتا، دباﺅ ڈال کر ہونیوالا نکاح بھی شرعی طور پرمنعقد نہیں ہوتا، نکاح کیلئے رضاورغبت ضروری ہے ۔ اگرکوئی عالم نکاح کیلئے موجود ہواور محترمہ روپڑے تو شرافت ، معصومیت یا والدین کا گھرچھوڑنے کے غم جیسی باتوں کا یقین کیے بغیر نکاح کے اقدامات کو آگے نہ بڑھائے ، قاضی پر لازم ہے کہ تسلی کرے کہ لڑکی کسی دباﺅ میں تونہیں ہے کیونکہ اسلام جبر کا دین نہیںاور عاقلہ و بالغہ کو اسلام نے اس ضمن میں آزادی دی ہے ، جس محترمہ اور جس محترم نے آئندہ کی زندگی گزارنی ہے انہیں باہمی طور پر دیکھنے کی اجازت ہے کیونکہ نبی رحمت ﷺ کا فرمان ہے کہ’ اس محترم کو بھی اجازت ہے کہ اپنی بننے والی بیوی کو آنکھوں سے دیکھے، اسی طرح اس محترمہ کو بھی اجازت ہے کہ اپنے بننے والے شوہر کو بھی دیکھے‘۔مفتی عبدالقوی نے بتایاکہ ایک محفل میں دو محافل میں، تین محافل میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو مطمئن کرنا نکاح سے پہلے اس کی بھی شریعت مطہرہ میں اجازت ہے اور یہ اجازت ہم سب کے نبی رحمت ﷺ نے دی ۔

0 comments:

Post a Comment

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();