امریکہ کی او ہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ڈاکٹر سارہ اینڈرسن کی سربراہی میں کی گئی ایک تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ چھوٹی عمر میں جو بچے رات 8 بجے تک سو جاتے ہیں وہ بڑے ہونے پر موٹاپے سے محفوظ رہتے ہیں۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر سارہ اینڈرسن کا کہنا تھا کہ اس بات کیلئے ٹھوس شواہد دستیاب ہو چکے ہیں کہ جلد سونے والے بچے موٹاپے سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ بچوں کو آٹھ بجے تک سلا دیتے ہیں نہ صرف وہ موٹاپے سے محفوظ رہے ہیں گے بلکہ ان کے رویے ، اور سماجی ، جذباتی اور ذہنی نشوو نما پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ موٹاپے سے بچاﺅ کے نتیجے میں متعدد دیگر بیماریوں، خصوصاً ذیابیطس اور دل کی بیماری کا خدشہ بھی کم ہو جاتا ہے۔
بچہ پیدا کرنے کی خواہش کیلئے دن کا کونسا وقت بہترین ہوتا ہے ، سائنسدانوں نے بتادیا
سائنسی جریدے دی جرنل آف پیڈی ایٹرکس میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں والدین کو خبردار کیا گیا ہے کہ 8 بجے کے بعد سونے میں جتنی تاخیر ہو گی منفی اثرات بھی اتنے ہی زیادہ مرتب ہونگے۔ محض ایک گھنٹے کی تاخیر کے ساتھ ، یعنی 9 بجے سونے والے بچوں میں موٹاپے کا خطرہ دو گناہ بڑھ جاتا ہے۔
اس تحقیق میں 977 بچوں کی سونے کی عادات اور ان میں موٹاپے کی شرح کا مطالعہ کیا گیا۔ اوسطاً ساڑھے 4 سال کی عمر میں سونے کے وقت اور بعد ازاں تقریباً 15 سال کی عمر میں موٹاپے کی شرح کا تقابل کیا گیا تو پتہ چلا کہ 8 بجے سے قبل سونے والے بچوں میں موٹاپے کی شرح 10 فیصد تھی، جبکہ 8 سے 9 بجے کے درمیان سونے والوں میں سے 16 فیصد موٹاپے کے شکار تھے۔ رات 9 بجے کے بعد سونے والے بچوں میں سے تقریباً 23 فیصد موٹاپے کی بیماری میں مبتلا تھے۔ تحقیق کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں کو سکول جانے کی عمر سے پہلے ہی جلد سونے کی عادت ڈالنا ضروری ہے کیونکہ بعد ازاں ان کی عادات پختہ ہو جاتی ہیں اور انہیں بدلنا مشکل ہو جاتا ہے ۔

0 comments:
Post a Comment