دمشق(نیوزڈیسک) تاریخ گواہ ہے کہ مسلم خواتین نے ہر مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کرکے امت مسلمہ کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔حال ہی میں ایک 27سالہ عرب لڑکی نے داعش سے چھڑائے گئے شہر کی میئر بن کر دنیا کو حیران کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کچھ سال قبل داعش نے شام کے ایک شہر 'تل ابید' پر قبضہ کرلیا تھا اور یہاں اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد کئی پابندیاں لگادی تھیں جن میں خواتین کو کام کی اجازت نہ ہونا،سگریٹ نوشی،ریسٹورنٹس پر جانے کی پابندی تھی۔جو لوگ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے تھے انہیں سخت سزائیں بھی دی جاتی تھیں۔اس شہر کا قبضہ گذشتہ جون میں شامی کردش گورسز نے داعش سے چھڑالیاتھااور اب اس شہر میں خوشگوار تبدیلی آئی ہے۔ایک 27سالہ لڑکی لیلیٰ محمد اب اس شہر کی میئر ہے اور وہ 51سالہ ایک اورمیئر ہمدان العبد کے ساتھ ملکر اس شہر کو چلا رہی ہے۔صرف یہی نہیں کہ وہ اس شہر کی پہلی خاتون میئر ہے بلکہ یہ بات بھی انتہائی دلچسپی کی حامل ہے کہ وہ سب سے کم عمر میئر ہے۔اس کے سامنے کئی چیلنجز درپیش ہیں جن میں ہر روز داعش کی جانب سے حملے شامل ہیں لیکن وہ ان کا سامنا انتہائی خندہ پیشانی کے ساتھ کررہی ہے۔"مجھے معلوم ہے کہ میری زندگی خطرے میں ہے لیکن مجھے اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔اگر وہ لوگ مجھے مارنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تو مجھے اس کا بالکل بھی ڈر نہیں ہے کیونکہ اگر میں یہ خوف دل میں لے کر پھروں گی تو پھر میں لوگوں کی خدمت نہیں کرسکوں گی۔"لیلیٰ اسی شہر میں پیدا ہوئی اور شہر میں اعلیٰ تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے قریبی شہر رقاچلی گئی جہاں وہ یونیورسٹی میں انجئنیرنگ کی تعلیم حاصل کررہی تھی لیکن اس دوران شام میں انقلاب کا آغاز ہوا۔وہ چاہتی تھی کہ صدر بشارالاسد کو نکالا جائے لیکن کمزور اپوزیشن کی وجہ سے یہ ممکن نہ تھا۔2013ءمیں رقانصرہ فرنٹ کے ہاتھوں میں چلا گیا جس کی وجہ سے اس نے یہ شہر چھوڑ دیا۔2014ءمیں یہ شہر داعش کے ہاتھ لگ چکا تھا۔"میں اپنے شہر کو دیکھ کر حیران رہ گئی جس میں ہر چیز کو سیاہ رنگ میں رنگ دیا گیا تھا۔"اس کے کئی ملنے والے یورپ جانے پر مجبور ہوگئے لیکن وہ ڈٹی رہی اور اپنے شہر کو واپس لینے کا انتظار کرتی رہی۔وہ اور اس کا خاندان اس انتظار میں بیٹھا رہا کہ کب داعش سے اس شہر کو چھڑایا جائے اور آخرکار وہ وقت آیا جب اس شہر سے داعش کا قبضہ چھڑالیاگیا۔جب وہ واپس اپنے شہر آئی تو مقامی قبائلیوں نے اس کا نام 'کومیئر'کے لئے دیا اور چند ہی دنوں بعد وہ ہمدان العبد کے ساتھ مئےر چُن لی گئی۔اس کا بطور میئر چناﺅ تمام عرب دنیا کے لئے انتہائی حیران کن اقدام ہے۔

0 comments:
Post a Comment