نیویارک کی سٹی یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے اس ذیل میں کچھ اہم کامیابیاں حاصل کرلی ہیں، جن کی تفصیلات ''سیل رپورٹس'' نامی تحقیقی جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں چوہوں کے علاوہ ایسے کتے بھی تیار کیے جاسکیں گے جو مخصوص مادّوں کی نہایت معمولی مقداروں سے اٹھنے والی بوؤں (scents) کو سونگھنے کے علاوہ پہچان بھی سکیں گے۔
پہلے مرحلے میں جینیاتی انجینئرنگ (جنیٹک انجینئرنگ) کے ذریعے انتہائی غیرمعمولی قوتِ شامّہ (سونگھنے کی حس) والے چوہے تیار کیے گئے؛ اور پھر انہیں دو بوئیں سونگھنے کی تربیت دی گئی۔ تجربات میں ان چوہوں نے عام چوہوں کے مقابلے میں ان مادّوں کی نہایت معمولی مقداریں کامیابی سے سونگھنے کا مظاہرہ کیا۔
اگرچہ افریقا میں اس وقت بھی بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے کے لیے تربیت یافتہ چوہے استعمال کیے جارہے ہیں مگر وہ جینیاتی طور پر ترمیم شدہ نہیں۔ زیرِ نظر تحقیق کے اگلے مرحلے میں جینیاتی انجینئرنگ کی مدد سے ایسے چوہے تیار کیے جائیں گے جو دھماکا خیز مادّوں اور منشیات کے علاوہ، طبّی اہمیت کے متعدد مرکبات کی انتہائی معمولی مقداریں بھی سونگھ سکیں گے۔

0 comments:
Post a Comment