صوفیہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سونے کے زیورات ہر خاتون کی کمزوری ہوتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں طلائی زیورات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاںان کے بغیر شادی کا تصور بھی مشکل ہے۔ اکثر کنواروں کی شادی نہ ہونے کی بڑی وجہ بالواسطہ یا بلاواسطہ یہی طلائی زیورات ہی ہوتے ہیں۔ حضرت انسان پر طلائی زیوارت کا یہ خبط کچھ نئی بات نہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ 6500سال قبل بھی لوگ سونے کے زیورات بناتے اور پہنتے تھے۔ اس بات کا انکشاف گزشتہ دنوں یورپی ملک بلغاریہ میں ایک جگہ کھدائی کے دوران ماہرین آثار قدیمہ کو سونے کے موتی ملے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان موتیوں کا تعلق 6500سال قدیم بالکنز تہذیب سے ہے۔ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بھی لوگ سونے کو ڈھال کر اس سے زیورات بنایا کرتے تھے۔
برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل بلغاریہ ہی کی وارنا بندرگاہ کے قریب سے 1972ءسے 1991ءکے درمیان ماہرین کو لگ بھگ 6کلوگرام طلائی زیورات ملے تھے۔ وہ زیورات 4500سال پرانے تھے۔ اب ملنے والے موتی ان سے بھی 2ہزار سال قدیم ہیں۔بلغارین اکیڈمی آف سائنس کے پروفیسر یافور بویاڈزیف کا کہنا ہے کہ "یہ انتہائی اہم دریافت ہے۔ یہ سونے کے بہت چھوٹے موتی ہیں لیکن ان سے ہمیں تاریخ کو سمجھنے میں بہت زیادہ مدد ملے گی۔"

0 comments:
Post a Comment