نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) آجکل خلائی تحقیقات کرنے والے سائنسدانوں کو ایک سیارے سے آنے والے عجیب و غریب قسم کے ریڈیو سگنلز نے حیران کر رکھا ہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ سگنلز سورج کی طرح کے ایک سیارے سے موصول ہو رہے ہیں جس کا نام ایچ ڈی164595 ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق یہ سیارہ ہماری زمین سے 95نوری سال کے فاصلے پر ہرکولیس نامی کہکشاں میں واقع ہے۔ ان سگنلز کے متعلق پہلا مفروضہ یہ قائم کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر اس سیارے پر خلائی مخلوق موجود ہے اور یہ سگنلز اسی کی طرف سے زمین پر بھیجے جا رہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ زمین کے ساتھ رابطے میں ہوں۔مگر ماہرین فلکیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ سگنل کسی فطری مظہر کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں، جیسا کہ مائیکرولینزنگ کا عمل، جس میں سیارے کی کشش ثقل مضبوط ہوتی ہے جس سے سیارے کی سطح سے ایسے سگنل دوسری جگہوں پر موصول ہوتے ہیں۔
کیا خلائی مخلوق کے ساتھ انسانوں کا رابطہ قائم ہوچکا ہے؟ بالآخر امریکی حکومت سچ سے پردہ اٹھانے والی ہے، لیکن کب اور کیوں؟ آپ بھی جانئے
تاہم ماہرین فلکیات نے خلائی مخلوق کے مفروضے کو یکسر رد نہیں کیا اور ان سگنلز کے پیچھے غیر ارضی ذہانت کی موجودگی کی تحقیق کے لیے متعلقہ ماہرین کو طلب کر لیا ہے جو آج رات شمالی کیلیفورنیا اور پانامہ سے ایلین ٹیلی سکوپ ایرے کے ذریعے اس سیارے کا مشاہدہ کریں گے اور پتا چلانے کی کوشش کریں گے کہ وہاں خلائی مخلوق موجود ہے یا نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیارے کا اوسط درجہ حرارت سورج سے بھی 12کیلوین (Kelvin)زیادہ ہے اور یہ عمر میں ہماری زمین سے 10کروڑ سال چھوٹا ہے یعنی یہ سیارہ ہماری زمین سے 10کروڑ سال بعد وجود میں آیا

0 comments:
Post a Comment